حکومت کو مذاکرات کے لیے ماحول بنانا ہوگا، ایک طرف سزائیں اور دوسری طرف مذاکرات نہیں چل سکتے، بیرسٹر گوہر

راولپنڈی: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت اگر مذاکرات چاہتی ہے تو اس کے لیے پہلے سازگار ماحول بنانا ہوگا، کیونکہ ایک جانب پارٹی رہنماؤں کو سزائیں دی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے، جو مناسب طرزِ عمل نہیں۔

داہگل ناکے پر روکے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے فلور پر مذاکرات کی دعوت دی تھی، جس پر پی ٹی آئی نے بھی واضح کیا کہ تمام سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقے سے ہی نکالا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو ملاقات کی اجازت ملنا خوش آئند ہے، اسی طرح بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فیملی کو بھی ملاقات کا موقع ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 36 ہفتے گزرنے کے باوجود عمران خان کی فیملی کی ملاقات نہ ہونا باعث تشویش ہے۔

بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ ایک ماہ قبل 26 نمبر چونگی پر احتجاج کے دوران کسی ملاقات کے حوالے سے کوئی پیغام نہیں دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے قبل صرف ایک بہن کی ملاقات کی اجازت سے متعلق بات ہوئی تھی، تاہم خاندان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو بیک وقت ملاقات کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فیملی کے اسپتال منتقل کرنے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بشریٰ بی بی سے ملاقات طے تھی، تاہم ان کی فیملی نہ آنے کے باعث ملاقات نہ ہو سکی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں میں غیر ضروری رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہئیں اور کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی صورت ملاقاتیں ممکن بنائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کا مؤقف ہے کہ تمام بہنوں کو ایک ساتھ ملاقات کی اجازت دی جائے، جبکہ ملاقاتوں سے ہی عمران خان کے مؤقف اور آئندہ حکمت عملی سے آگاہی ممکن ہوگی۔

پارٹی معاملات پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کا کوئی متبادل نہیں اور پارٹی انہی کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق بیانات عوامی سطح پر آ رہے ہیں، حالانکہ ایسے معاملات پارٹی کے اندر ہی زیر بحث آنے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کی ملاقات کی درخواست بھی پارٹی کی جانب سے دی گئی تھی اور ملاقاتوں کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر زہریلے پروپیگنڈے سے گریز کیا جانا چاہیے اور اگر ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہو جائے تو اس قسم کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جو اقدامات کر رہی ہے، پی ٹی آئی ان کی حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک ناسور ہے، جس کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے اور اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

ادھر بشریٰ بی بی کی بیٹی مبشرہ شیخ اور بھابھی مہرالنسا مانیکا کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی گئی، تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کسی بھی پارٹی رہنما یا اہلِ خانہ کی ملاقات نہ ہو سکی۔

دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور دیگر رہنما فیکٹری ناکے پر پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ جیل جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ ملاقات کا وقت ختم ہونے کے بعد علیمہ خان نے میڈیسن فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا، جہاں کارکنوں نے نعرے بازی بھی کی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close