آپ کی کمائی پر اب کتنا ٹیکس کٹے گا؟ بجٹ میں نئی تجاویز شامل

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کراتے ہوئے ٹیکس سلیبز کی ساخت کو ازسرِنو ترتیب دے دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ٹیکس سلیبز کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کر دی گئی ہے تاکہ مختلف آمدنی رکھنے والے افراد پر زیادہ منصفانہ انداز میں ٹیکس عائد کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے چار اہم سلیبز میں ریلیف فراہم کیا ہے، جبکہ اعلیٰ آمدن رکھنے والے افراد پر عائد 9 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

نئے فنانس بل کے مطابق ماہانہ 50 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی ہے، یعنی وہ مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اسی طرح 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

ایک لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ 11 فیصد شرح مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے اگلے سلیب یعنی پونے دو لاکھ سے دو لاکھ 66 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر فکسڈ سالانہ ٹیکس کے ساتھ 20 فیصد شرح نافذ ہوگی۔

مزید اعلیٰ آمدن والے سلیبز میں دو لاکھ 66 ہزار سے تین لاکھ 41 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر 25 فیصد، تین لاکھ 41 ہزار سے چار لاکھ 66 ہزار روپے تک 29 فیصد، اور چار لاکھ 66 ہزار سے پانچ لاکھ 83 ہزار روپے تک 32 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ پانچ لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر 35 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

حکومتی حکام کے مطابق اس نئے ٹیکس ڈھانچے کا مقصد مختلف آمدنی والے طبقوں پر بوجھ کو زیادہ متوازن بنانا اور کم آمدنی والوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

مثالوں کے مطابق ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے افراد کے ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جبکہ 24 لاکھ سالانہ آمدن رکھنے والوں کو معمولی کمی کے ساتھ سالانہ چھ ہزار روپے تک کا فائدہ ہوگا۔ اسی طرح 36 لاکھ سالانہ کمانے والوں کو تقریباً 51 ہزار روپے، 48 لاکھ سالانہ آمدن والوں کو ایک لاکھ سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن رکھنے والوں کو بھی واضح ریلیف حاصل ہوگا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نئے نظام سے متوسط اور بالائی متوسط طبقے کو مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک سہولت ملے گی اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close