وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے بھاری قرض لینے اور سود کی ادائیگی سے متعلق نئے مالی تخمینے جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق آئندہ سال بھی ملک کا مالی ڈھانچہ قرضوں پر انحصار جاری رکھے گا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 6 ہزار 779 ارب روپے سے زائد قرض لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ قرض مختلف مالی ضروریات اور ترقیاتی و جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیا جائے گا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اسی عرصے میں پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا بوجھ مزید بڑھ کر 8 ہزار 54 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔ اس میں سب سے بڑا حصہ مقامی قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہوگا، جو 6 ہزار 983 ارب روپے کے قریب رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی تقریباً ایک ہزار 71 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔
بجٹ کے مطابق حکومت بیرونی مالی معاونت سے بھی کچھ ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ پراجیکٹ لونز اور گرانٹس کی مد میں 574 ارب روپے جبکہ پروگرام لونز کے ذریعے 418 ارب روپے کے بیرونی قرضے متوقع ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 5 ہزار 542 ارب روپے کے اضافی قرضے لینے کا بھی منصوبہ شامل ہے۔
دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران بیرونی گرانٹس کی مد میں تقریباً 31 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






