عوام کو لائنوں میں لگا کر بھکاری بنانا بند کرو! پارلیمنٹ کو للکار

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں ایک ایسا مافیا موجود ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور قومی وسائل سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ عام آدمی مسلسل معاشی مشکلات کا شکار ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بڑے کاشت کار اور جاگیردار انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے، جبکہ عوام سے مختلف مدات میں بھاری ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن طبقات پر براہ راست ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ان سے بھی لیوی کی مد میں سینکڑوں ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جو معاشی ناانصافی کی واضح مثال ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آئندہ بجٹ میں مڈل کلاس طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم یا ختم کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کا اندرونی اور بیرونی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ زراعت کا شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول چینی بحران اور دیگر معاشی مسائل کے پیچھے بااثر مافیا سرگرم ہے جو مختلف شعبوں میں فائدہ اٹھا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو حقیقی ریلیف دیا جانا چاہیے اور صحت، تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو خود کفیل بنانے کے بجائے امدادی پروگراموں پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والوں کو انکم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے اور بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کر کے چھوٹے کاشت کاروں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close