پی ٹی آئی چھوڑ کر نون لیگ میں شامل ہونیوالے رہنما کے سنسنی خیز انکشافات

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہونے والے عثمان علی کے سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتنے کے بعد حال ہی میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے رکنِ قومی اسمبلی عثمان علی نےاے آر وائی نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی اور تہلکہ خیز انٹرویو میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے۔

عثمان علی نے پی ٹی ائی کی لیڈر شپ کے فکسڈ میچ پر مبنی سیاست کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی لیڈرشپ نے ہمیں فروخت کر دیا اور ایسا لگتا ہے کہ ان کا کہیں میچ فکس تھا، اسی لیے ہمیں جان بوجھ کر آزاد ڈیکلیئر کرایا گیا۔

ایم این اے نے پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور مخصوص نشستوں کے معاملے پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ حلف کی خلاف ورزی کرنے پر قوم اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہیں۔
عثمان علی نے انٹرویو کے دوران پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کئی اہم انکشافات کیے۔

رکن اسمبلی ک کا کہنا تھا کہ “ہم نے اپنا حلف نامہ بیرسٹر گوہر کو دیا تھا، لیکن انہوں نے اسے الیکشن کمیشن میں جمع ہی نہیں کرایا۔”

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ ہمیں بھی سنی اتحاد کونسل میں شامل کریں، تو آگے سے جواب ملا کہ “آپ آزاد ہی رہیں اور موجیں ماریں”۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب 41 اور 39 ارکان کی بات ہو رہی تھی، تب بھی بیرسٹر گوہر سے کہا تھا کہ ہمیں آزاد نہ رکھیں، لیکن انہوں نے ہم 5 ایم این ایز کو آزاد رہنے دیا اور باقی سب کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کروا دیا۔

عثمان علی نے یہ سنسنی خیز دعویٰ بھی کیا کہ خود پی ٹی آئی کے بعض دوستوں نے ان سے کہا تھا کہ وہ ان کا مسلم لیگ (ن) سے رابطہ کروا دیں، تاہم انہوں نے اس وقت انکار کر دیا تھا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close