تہران: ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کرنے کے دعوؤں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں اور مذاکراتی عمل ختم نہیں ہوا۔
ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم، جنہیں پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے رپورٹ کیا کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے روک دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ثالثی کے عمل سے وابستہ ایک علاقائی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ساتھ حالیہ رابطے نہیں کیے۔ ان کے مطابق تہران کا مؤقف تھا کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں غلط اور گمراہ کن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ کئی روز سے مسلسل رابطے ہو رہے ہیں اور بات چیت کا سلسلہ برقرار ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کس نتیجے تک پہنچیں گے، تاہم انہوں نے ایران پر زور دیا کہ معاہدے کے لیے یہی مناسب وقت ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں اور فریقین مختلف امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






