مریضوں کی لاٹری نکل آئی! جادوئی دوا کے حیرت انگیز نتائج

لندن: ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مینریلز تھیراپیوٹکس کی تیار کردہ تجرباتی دوا “لورونڈروسٹیٹ” دائمی گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد کے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

یہ نتائج یورپ میں منعقد ہونے والی ایک بڑی طبی کانفرنس میں پیش کیے گئے، جہاں ماہرین نے بتایا کہ دوا کا جائزہ ایک لیٹ اسٹیج کلینیکل ٹرائل کے دوران لیا گیا، جس میں 800 ایسے مریض شامل تھے جن کا بلڈ پریشر موجودہ علاج کے باوجود قابو میں نہیں آ رہا تھا۔

تحقیق کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری میں مبتلا 192 مریضوں میں 12 ہفتوں کے دوران سسٹولک بلڈ پریشر میں اوسطاً 9.6 ملی میٹر مرکری کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر مریضوں میں یہ کمی 12.2 ملی میٹر مرکری تک دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف شماریاتی اعتبار سے اہم ہیں بلکہ طبی لحاظ سے بھی خاصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ تحقیق میں شامل 71 فیصد مریض پہلے ہی بلڈ پریشر کی تین یا اس سے زیادہ ادویات استعمال کر رہے تھے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ لورونڈروسٹیٹ نے پیشاب میں موجود پروٹین “البیومن” کی سطح کو نصف سے زیادہ کم کر دیا، جسے گردوں کو پہنچنے والے نقصان کی ایک اہم علامت تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کا گہرا تعلق ہائی بلڈ پریشر سے ہے، جو دل کے امراض اور قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

یہ دوا جسم میں الڈوسٹیرون نامی ہارمون کی پیداوار کو روک کر کام کرتی ہے، جو بلڈ پریشر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرز کی ایک اور دوا حال ہی میں امریکا میں منظوری حاصل کر چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لورونڈروسٹیٹ اس وقت امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی منظوری کے مراحل سے گزر رہی ہے اور اس کے بارے میں حتمی فیصلہ دسمبر میں متوقع ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close