عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت نامے جیل میں کیوں پھنس گئے؟

راولپنڈی: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اپیل دائر کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے، جس کے باعث قانونی کارروائی میں تاخیر کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری چار گھنٹے انتظار کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے وکالت نامے 25 مئی کو جیل حکام کو موصول ہو چکے تھے، تاہم تاحال ان پر دستخط نہیں کروائے گئے۔

خالد یوسف چوہدری کے مطابق جیل انتظامیہ نے انہیں عید کے بعد دوبارہ آنے کا کہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروانا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے انصاف تک رسائی کے حق میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا ہے۔ ان کے مطابق 25 مئی کو انہیں صرف میڈیکل پٹیشن سے متعلق ایک وکالت نامہ فراہم کیا گیا تھا، جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے وکالت ناموں پر اب تک دستخط نہیں کروائے جا رہے۔

دریں اثنا عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ ملاقات کے روز جیل حکام کو اپنی فہرست ارسال کر دی ہے۔ فہرست میں ایڈووکیٹ فیصل ملک، تابش فاروق، علی اعجاز بٹر، بابر اعوان، حسنین سنبل اور بلال عمر بودلہ کے نام شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کابینہ سمیت اڈیالہ جیل آمد بھی متوقع ہے، جبکہ عمران خان کی بہنیں اور بشریٰ بی بی کے اہل خانہ بھی ملاقات کے لیے جیل پہنچ سکتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close