جے پور: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ابھی چند روز لگ سکتے ہیں، جبکہ اسی دوران امریکا نے جنوبی ایران میں نئی فوجی کارروائیوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے بھارتی شہر جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ابتدائی مسودے کے نکات پر دونوں فریق مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم صرف ایسی ڈیل قبول کی جائے گی جو امریکی مفادات کے مطابق ہو۔ مارکو روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے جنوبی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں اپنے فوجیوں کے دفاع کے لیے کی گئیں۔
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ان مقامات کو ٹارگٹ کیا گیا جہاں سے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے بندر عباس کے قریب دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم ایرانی حکومت نے امریکی دعوؤں کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
ادھر دوحہ میں ایرانی مذاکرات کاروں اور دیگر حکام کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جاری ہے، جس میں آبنائے ہرمز، جنگ بندی میں توسیع، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی جیسے اہم معاملات زیر غور ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک کسی ابتدائی فریم ورک معاہدے پر اتفاق نہیں ہو جاتا۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ، خلیجی خطے اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






