امریکا نے یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے سعودی عرب کی فوجی مدد سے گریز کیا ہے جبکہ دی گارڈین کے مطابق امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے مسقط میں امریکی سفارت خانے میں حوثی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں حوثیوں نے یقین دہانی کرائی کہ 2025 کی جنگ بندی برقرار ہے اور بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ صرف سعودی عرب سے منسلک یا سعودی تیل لے جانے والے جہاز ممکنہ اہداف ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رابطے کی تصدیق کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے مغربی ساحل پر حوثی پیش قدمی پر تشویش ظاہر کی لیکن فوجی کارروائی سے گریز کیا۔ سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق واشنگٹن اور حوثیوں میں خاموش مفاہمت ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے الزام لگایا کہ حوثیوں نے منگل کو مکہ کی جانب ڈرون بھیجا جسے شام 6:50 پر مار گرایا گیا، جسے حوثی قیادت نے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔






