سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلیفون پر رابطہ کرکے یمن کے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی پر زور دیا، تاہم امریکی صدر نے ان کی درخواست مسترد کردی۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے جمعرات کو ہونے والی گفتگو میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں واشنگٹن کا حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں اور امریکا یمن میں بڑھتے ہوئے تنازع پر تشویش کے باوجود براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سعودی حکام سے ملاقاتیں کرکے صورتحال پر مشاورت کی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی اور سول حکام نے سعودی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ترجیح امریکی افواج کی توجہ ایران پر مرکوز رکھنے اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے۔ یمن میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب اور امریکا کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ریاض بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو حوثیوں کے حملوں سے لاحق خطرات کے پیش نظر عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔






