امریکا نے ایران کے خلاف نئی حکمتِ عملی تیار کرنے کے لیے فوجی اہلکاروں اور تجزیہ کاروں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ مبینہ طور پر لیک ہونے والی ایک سرکاری ای میل کے ذریعے سامنے آیا، جو امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) سے وابستہ انٹیلی جنس حکام کی جانب سے بھیجی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ای میل میں اہلکاروں سے کہا گیا کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھانے اور اسے مذاکرات کی طرف لانے کے لیے نئے، تخلیقی اور غیر روایتی طریقے تجویز کریں۔
ای میل میں روایتی عسکری اقدامات کے ساتھ ایسے منفرد خیالات پیش کرنے پر زور دیا گیا جو تہران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا سکیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق نچلی سطح کے اہلکاروں اور تجزیہ کاروں سے براہِ راست تجاویز طلب کرنا ایک غیرمعمولی اقدام ہے۔ تاہم، پینٹاگون کی جانب سے مبینہ لیک ہونے والی ای میل یا اس حوالے سے کیے گئے مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔






