//

ایران کے خلیجی ممالک پر نئے جوابی حملے، ہلاک امریکی فوجیوں کی تعداد کتنی ہو گئی ؟ خبر آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، حملوں کا سلسلہ جاری

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں امریکا نے ایران پر مسلسل آٹھویں رات فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے بھی خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر 18 جولائی کی رات ایران میں فضائی کارروائی کی گئی۔ امریکی حکام کے مطابق حملوں میں ایرانی ساحلی نگرانی کے نظام، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام نے کہا کہ یہ کارروائیاں ان ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے خلاف بھی کی گئیں جن پر ایک روز قبل اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع کے مطابق جنوبی ایران کے علاقے سریک میں امریکی حملہ ہوا، تاہم وہاں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق جاری تنازع میں اب تک 16 امریکی فوجی ہلاک اور 420 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ فوجیوں کی قربانیاں امریکا کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

ایرانی حملوں کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی اتحادیوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ صورتحال کے باعث امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سفری الرٹ جاری کر دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات سے اس کے وعدوں پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کو اس کے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

اس تنازع کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس اہم بحری راستے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اور اتحادی ممالک ایران پر بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

یورپی یونین اور خلیجی ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری جہاز رانی میں مداخلت اور حملے بند کرے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے۔

ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران امریکی حملوں کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close