ایرانی صدر کے استعفیٰ سے متعلق خبریں ، تہران کا ردعمل آ گیا

امریکی ٹی وی فاکس نیوز اور ایران کے خبررساں ادارے ایران انٹرنیشنل کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران میں صدر مسعود پزشکیان نے حکومتی معاملات میں مداخلت اور اہم فیصلوں میں سے باہر رکھے جانے پر مبینہ طور پر استعفیٰ پیش کر دیا ہے ہے۔ دوسری جانب بی بی سی کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مایوسی پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران کے صدر نے مبینہ طور پر استعفیٰ دینے کی درخواست کی ہے اور اس کی وجہ ملک کے حکمران نظام کے اندر اپنے اختیارات میں کمی کو قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر کے دفتر کو بتایا کہ انہیں اہم فیصلوں کے عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر پا رہے۔
فاکس نیوز کے مطابق یہ مبینہ استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کے اندر طاقت کی کشمکش کے آثار بڑھ رہے ہیں اور امریکہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ’ایران انٹرنیشنل‘ کی جانب سے سب سے پہلے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی گئی تھی کے ایرانی صدر نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حکومتی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد دُنیا بھر بشمول امریکی میڈیا کے متعدد خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس پر ایک بحث شروع ہو گئی تھی۔
تاہم بی بی سی کے مطابق ایران کے متعدد سرکاری عہدیداروں، جن میں حکومتی ترجمان بھی شامل ہیں نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں ’مایوسی پھیلانے کے مترادف اور جھوٹی اطلاعات‘ قرار دیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close