مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی کے تنازع کے دوران، تہران نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ پر اپنا کنٹرول باقاعدہ طور پر سخت کر دیا ہے۔
جہاز رانی کے عالمی جریدے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ایران نے اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے نئے قواعد و ضوابط متعارف کروا دیے ہیں، جن کے تحت اب جہازوں کو وہاں سے گزرنے کے لیے نہ صرف اجازت لینا ہوگی بلکہ ’ٹول ٹیکس‘ بھی ادا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ دنیا کی کل تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی بندش نے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کو پہلے ہی متاثر کر رکھا ہے۔
ایران کی جانب سے قائم کردہ ’پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ (پی جی ایس اے) نے ایک نیا فریم ورک تیار کیا ہے جس کے تحت جہازوں کو ایک فارم بھرنا ہوگا جس میں 40 سے زائد سوالات شامل ہیں۔
اس فارم میں جہاز کی ملکیت، عملے کی تفصیلات، انشورنس، منزل اور لدے ہوئے سامان کی مکمل معلومات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا ’پریس ٹی وی‘ کا کہنا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے یہ نیا نظام بنایا ہے اور اب تمام بحری جہازوں کو ای میل کے ذریعے ان ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ غلط معلومات فراہم کرنے کی صورت میں تمام تر نتائج کی ذمہ داری متعلقہ کمپنی پر ہوگی۔
ایران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کن ممالک کو وہاں سے گزرنے میں آسانی ہوگی اور کن کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں۔
ایرانی فوج کے عہدیدار محمد اکرمینیہ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممالک جو امریکا کی ایما پر ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ سے گزرتے وقت یقیناً مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے آبنائے ہرمز میں ایک نیا قانونی اور حفاظتی نظام قائم کر دیا ہے، اب سے جو بھی جہاز یہاں سے گزرنا چاہے گا اسے ہمارے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنی ہوگی، اور اس سے ہمیں معاشی، سیاسی اور حفاظتی فوائد حاصل ہوں گے۔
اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سوشل میڈیا پر بحرین جیسے ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ امریکا کا ساتھ دے کر اپنے لیے یہ راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا خطرہ مول نہ لیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تہران نے اس اہم آبی راستے کو تقریباً جکڑ رکھا ہے، جس سے تیل کی سپلائی میں تاریخی تعطل پیدا ہوا ہے۔
ایران کا ارادہ ہے کہ وہ یہاں سے حاصل ہونے والا ٹول ٹیکس پڑوسی ملک عمان کے ساتھ شیئر کرے۔
دوسری جانب امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ نے بحری کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ادائیگی نہ کریں۔
امریکا اور بحرین نے اس پابندی کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک قرارداد بھی پیش کی ہے، تاہم روس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس قرارداد کو ویٹو کر کے روک سکتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی یہ پیغام دیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں غیر ملکی مداخلت کی کوئی جگہ نہیں ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اختیار ایک اسٹریٹجک قوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک پہلے ہی تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ ان کے پرچم تلے چلنے والے جہازوں کو محفوظ راستہ مل سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






