ایرانی وفد امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد نہ آیا تو کیا ہوگا؟

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شمولیت کے انکار کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

 

آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی اور ایرانی جہاز پر حملے کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے لیے اسلام آباد نہیں جائے گا۔

اس حوالے سے تہران یونیورسٹی کے مڈل ایسٹ اسٹڈیز کے محقق محمد اسلامی کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ملنے والے ملے جلے پیغامات کسی الجھن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہیں۔

انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو دراصل اس لیے بند کیا تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر بطور کارڈ استعمال کر کے دوبارہ کھول سکے، یہ سب بات چیت کا ایک حصہ ہے۔

ایرانی کارگو جہاز کو امریکی تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد اسلامی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ تہران کی کوئی غلط فہمی یا غلط حساب کتاب تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی نکتہ نظر سے امریکا اس وقت اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایرانی جہاز پر قبضہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر جوابی حملوں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جب امریکا نے یہ جنگ شروع کی تو ان کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں تھی، اسی لیے میں مذاکرات کے حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہوں اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

دوسری جانب آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر امین سائیکل کا ماننا ہے کہ خلیج میں ایرانی جہاز پر قبضے کی کارروائی اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صرف تناؤ میں اضافہ ہوگا اور اسلام آباد مذاکرات سے کسی معقول نتیجے کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔

پروفیسر امین سائیکل نے مشورہ دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بگاڑ دیں، خاص طور پر اگر وہ کسی مستقل حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے امین سائیکل نے کہا کہ صدر ٹرمپ بیک وقت دو متضاد رویے اپنا رہے ہیں، ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ وہ بحران کا حل چاہتے ہیں اور دوسری طرف ایران کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، جس سے حالات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں اور دونوں فریقین پر شدید دباؤ ہے، لیکن اب آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک نئی دفاعی طاقت بن کر ابھری ہے جسے وہ اپنی حفاظت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close