بارشوں اور سیلاب سے تباہی، ریلوے پل بہہ گیا

لاہور/مریدکے/نارووال/وزیرآباد (آئی این پی): پنجاب میں مسلسل بارشوں اور سیلابی صورتحال نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فیروزوالہ میں نالے کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے، جبکہ طغیانی کے باعث ریلوے کا ایک پل بہہ جانے سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوگئی۔ سیلاب سے وسیع پیمانے پر زرعی اراضی متاثر ہوئی اور مونجی سمیت مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں۔

قلعہ ستار شاہ کے قریب شدید بارشوں اور سیلابی ریلے سے ریلوے پل کو نقصان پہنچنے پر لاہور۔فیصل آباد ریلوے سیکشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ پاکستان ریلوے نے متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل جبکہ بعض ٹرینیں منسوخ کر دیں۔

ریلوے حکام کے مطابق قراقرم ایکسپریس (42 ڈاؤن) لاہور سے کراچی براستہ ساہیوال روانہ کی گئی، جبکہ فیصل آباد کے مسافروں کو ملت ایکسپریس میں منتقل کیا گیا۔ کراچی سے لاہور آنے والی شالیمار ایکسپریس بھی براستہ ساہیوال چلائی گئی۔ میانوالی ایکسپریس کو وزیرآباد اور لالہ موسیٰ کے راستے چلایا گیا، جبکہ بدر ایکسپریس اور غوری ایکسپریس کو منسوخ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پل اور ریلوے ٹریک کی بحالی کے لیے مرمتی کام جاری ہے۔

ادھر بھلے ڈسنوال اور بانیوال کے قریب برساتی نالے میں شدید طغیانی کے باعث حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس سے پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا اور متعدد افراد گھروں میں محصور ہو گئے۔ مقامی افراد کے مطابق سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

مریدکے تحصیل میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے دو سو سے زائد دیہات کو متاثر کیا۔ سیلابی پانی نئے ایئرپورٹ، کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی، کالا شاہ کاکو اسپتال اور گرلز ڈگری کالج میں داخل ہو گیا، جبکہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق کا آبائی گاؤں بھی سیلاب کی زد میں آ گیا۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نارووال روڈ پر تین عارضی ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کلاؤڈ برسٹ اور بھارت کی جانب سے آنے والے پانی کے باعث نالہ ڈیک، نالہ کھوڑی، نالہ بھیڈ اور دیگر برساتی نالوں میں شدید طغیانی آئی، جس سے مریدکے، کامونکی اور فیروزوالہ کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے۔ ننگل ساہداں، ننگل دونا سنگھ، نٹھعانوالی، رستم پور، مونگنانوالہ، کوٹ سیداں اور ننگل کسوالہ سمیت کئی دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ ریسکیو 1122، مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے رضاکار کشتیوں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کمی کے باوجود خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور بلوکی میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔ وزیرآباد میں نالہ پلکھو میں اونچے درجے اور نارووال میں نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ شہری غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں، جبکہ بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیا جائے۔

close