اکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے 11 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دے دیا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ جس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پارٹی صوبائی صدر جنید خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔
مشترکہ اپوزیشن کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کے بعد پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات بلوچستان جیسے ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار تھی اور بات چیت کسی ممکنہ اتفاق رائے کی جانب بڑھ رہی تھی، تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے نے صورت حال یکسر تبدیل کر دی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان میں جمہوری نظام برقرار رکھنا چاہتی ہے، لیکن صوبے کے عوام پر فیصلے مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے 1973 میں بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل کی صوبائی حکومت کی برطرفی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی محرومیوں اور جبر پر مبنی اقدامات کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔ اور نفرت کے بیج بونے کے نتائج آسانی سے ختم نہیں ہوتے۔






