وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ صوبہ اسلام آباد کے سب سے بڑے حامی ہیں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو کوئی فرد یا نمائندے نہیں روک سکتے۔
قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ مختلف فورمز پر صوبہ اسلام آباد کے قیام کی بات کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر شہری کو این ایف سی ایوارڈ سے حصہ ملتا ہے، تاہم اسلام آباد کے شہری اس سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد شہر کا نظام چلاتی ہے اور یہ واحد شہر ہے جسے کسی بجٹ سے ایک روپیہ بھی نہیں ملتا۔ اگر کوئی نیا صوبہ بنتا ہے تو اسلام آباد ایسا معاملہ ہے جس پر سب کو اتفاق کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے سے مراد اسے توڑنا یا غیر آئینی طریقہ اختیار کرنا نہیں بلکہ موجودہ غلطیوں کو درست کرنا ہے۔ 79 سال سے جاری انتظامی نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے تو نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ ان کی جانب سے نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی بات کسی سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست سے متعلق نہیں بلکہ انتظامی نظام میں بہتری کے حوالے سے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام چاہتی ہے تو نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں اور اس معاملے کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا۔ نئے یونٹس کا فیصلہ کسی ایک حکمران یا لیڈر کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے، تاہم نئی تحصیلیں، ڈویژنز اور اضلاع بنانے کے باوجود اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔






