وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری کے ٹیکس اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی دو روز قیام کریں، جبکہ ایف بی آر مقررہ ریونیو ہدف کے حصول کے لیے انفورسمنٹ اقدامات تیز کرے۔
انہوں نے ایف بی آر کو اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر انفورسمنٹ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے چکوال اور صوابی میں سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کی کارروائیوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے تمام حساس عہدوں اور محکموں میں اچھی شہرت کے حامل اور ایماندار افسران و اہلکاروں کی تعیناتی کی ہدایت کی، جبکہ ان لینڈ ریونیو کے لیے مجوزہ فیس لیس نظام کی بروقت تکمیل پر بھی زور دیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیس لیس نظام کا مکمل رول آؤٹ 2027 تک یقینی بنایا جائے، جبکہ فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر 2026 سے فعال ہوگا۔ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس نظام ایف بی آر کی حالیہ ڈیجیٹلائزیشن اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ اس نظام میں ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کے لیے نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ اور اسیسمینٹ کے لیے فیس لیس اسیسمینٹ یونٹ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیس لیس نظام میں ٹیکس کیسز کا دائرہ اختیار جغرافیائی حدود سے قطع نظر رینڈم بنیادوں پر مختص کیا جائے گا۔
چیئرمین ایف بی آر نے وزیراعظم کی ہدایت پر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں قیام اور کاروباری برادری سے ملاقاتوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کراچی میں سات بڑے تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے، جبکہ کراچی میں قیام کے دوران کاروباری برادری کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کے لیے ٹائم باؤنڈ ایس او پیز جاری کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چکوال میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فیکٹری سیل کردی گئی، جبکہ غیر قانونی سگریٹ کا ذخیرہ اور مشینری بھی قبضے میں لے لی گئی۔ صوابی میں بھی غیر قانونی سگریٹ فیکٹری کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔






