کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں 34 کان کن جاں بحق ہو گئے، جبکہ 7 مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق سورینج کی ایک کوئلہ کان میں اچانک میتھین گیس بھر جانے سے زور دار دھماکا ہوا، جس کے باعث کان کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور وہاں کام کرنے والے متعدد کان کن ملبے تلے دب گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے، محکمہ مائنز اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکال کر سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی 7 مزدوروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن دوسرے روز بھی جاری ہے۔
جاں بحق ہونے والے بیشتر مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے، جبکہ 11 مزدوروں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف کے مطابق حادثے کے وقت تمام کان کن زمین سے تقریباً ڈھائی سے تین ہزار فٹ گہرائی میں کام کر رہے تھے۔ دھماکے سے کان میں ہوا اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے قائم متبادل راستہ بھی متاثر ہوا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حادثے کے وقت کان کے اندر مجموعی طور پر 41 کان کن موجود تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ باقی 7 مزدوروں کی تلاش کے لیے بھاری مشینری اور دستیاب وسائل کے ساتھ آپریشن جاری ہے اور آخری کان کن تک رسائی حاصل ہونے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے شفاف تحقیقات، حادثے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا کہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
بلوچستان حکومت نے جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ روپے فی کس جبکہ زخمی مزدوروں کے لیے 3 لاکھ روپے فی کس مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔






