جمعہ کے روز عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم قیمتی دھات پانچ ماہ بعد پہلی مرتبہ ماہانہ اضافے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 76.53 ڈالر فی اونس پر آ گئی، تاہم رواں ہفتے کے دوران سونا 0.6 فیصد اضافے جبکہ رواں ماہ تقریباً 1.7 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔
امریکی گولڈ فیوچر کی قیمت بھی 0.4 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 74.20 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کا حصول اور امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ہے۔ ڈالر مضبوط ہونے سے ڈالر میں فروخت ہونے والی اشیا غیر ملکی خریداروں کے لیے مہنگی ہو جاتی ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق سونے کو 4 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح کے قریب خریداری کا سہارا ملا، جس کے باعث قیمتوں میں استحکام اور بہتری کا رجحان برقرار رہا۔
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے اور مستقبل کی پالیسی سے متعلق غیر واضح صورتحال بھی سونے کی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلند شرح سود سونے کی کشش کو کم کر سکتی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خطرات سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دے رہے ہیں۔






