//

پیٹرول کی قیمت میں کمی ……. وفاقی وزیر کا اہم بیان آگیا

وفاقی وزیر احسن اقبال نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ کم ہوتے ہی ملک کے اندر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کر دی جائے گی۔ لاہور کے ایکسپو سینٹر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام تر دستیاب وسائل اور کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔

ملک میں ٹیکس چوری کے نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹیکس چوری کا سلسلہ یوں ہی قائم رہا تو حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصو بوں کو کیسے آگے بڑھائے گی؟ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو ٹیکس چوروں کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے، اور اگر اس روش کا خاتمہ نہ کیا گیا تو تمام تر مالیاتی بوجھ ایماندار ٹیکس دہندگان کے کندھوں پر ہی پڑتا رہے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات کے مثبت ثمرات و نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دورِ حکومت میں پیٹرولیم مصنوعات की قیمتوں کو مصنوعی طریقے سے کم رکھ کر ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں ملک کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، لیکن تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی و جنگ کے اثرات سے صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہو رہا بلکہ اس صورتحال کے باعث خود امریکہ کے اندر بھی مہنگائی کی ایک شدید لہر آ چکی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات پر بات جاری رکھتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخ بڑھتے ہیں تو حکومت بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو جاتی ہے، لیکن جیسے ہی عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آئے گی، حکومت بلا تاخیر عوام کو اس کا فائدہ پہنچاتے ہوئے قیمتیں کم کر دے گی۔

حکومت کی سفارتی اور معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے عمدہ اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر خود کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ملوایا ہے۔ اسی کامیاب حکمتِ عملی کے نتیجے میں بارہ سال کے طویل عرصے کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ میں دوبارہ بہتری اور اپ گریڈیشن ممکن ہو سکی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close