مفتی تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ سامنے آ گیا
صدر وفاق المدارس العربیہ اور دارالعلوم کراچی، مفتی محمد تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس میں انہوں نے کرپٹو کرنسی کے استعمال اور اس کے ذریعے خرید و فروخت کے شرعی حکم پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
فتویٰ میں مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ماہرین کی اب تک کی تحقیق اور آراء کی روشنی میں کرپٹو کرنسی کو شرعی اعتبار سے “مال” قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ محض کھاتوں میں موجود فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ چاہے معاملہ یو ایس ڈی ٹی (USDT) کے ذریعے ہو یا کسی بھی قسم کے کرپٹو ٹوکن کے ذریعے، کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہوئے خرید و فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
دوسری جانب مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے حسن عثمانی نے بھی اس فتویٰ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر گردش کرنے والا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ واقعی مفتی محمد تقی عثمانی ہی کا جاری کردہ ہے۔
اس فتویٰ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کرپٹو کرنسی کے شرعی اور معاشی پہلوؤں پر نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جبکہ مختلف حلقے اس حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






