سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں انسانی بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ غزہ میں لاکھوں افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت اور صحت و تعلیم سے محروم ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے اور انسانی بحرانوں کے مستقل حل کا واحد راستہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہی وہ وژن اور سیاسی راستہ ہے جس پر عالمی برادری کا وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے اور تمام کوششوں کا رخ اسی مقصد کی جانب ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بغیر کسی شرط کے فوری تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین کے ساتھ سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ مغربی کنارے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جہاں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، جبری بے دخلی اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے باعث صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اجتماعی کارروائی کرے اور فوری، بلا رکاوٹ اور آزادانہ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 اور 2803 کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں، رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں امداد، تجارتی سامان اور طبی انخلا کے لیے کھولی جائیں اور مکمل طور پر فعال رکھی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ برسوں سے قبضے اور اجتماعی سزا کا ایک ذریعہ رہا ہے، اور یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انسانی امداد کو کبھی بھی بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور محاصرہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی امداد غیر مشروط ہونی چاہیے، سیاسی کوششیں اپنی جگہ جاری رہیں، لیکن امداد کی فراہمی کو سیاسی شرائط یا مذاکراتی مراحل سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے، اور پورے غزہ میں اقوام متحدہ کے اداروں کے ذریعے امدادی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی وسائل کی شدید کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے، اقوام متحدہ کی 2026 کی ہنگامی اپیل اب تک صرف تقریباً 12 فیصد فنڈنگ حاصل کر سکی ہے، جبکہ غزہ تعمیرِ نو و ترقی فنڈ (GRAD) کا قیام اور 17 ارب امریکی ڈالر کے وعدے خوش آئند ہیں، تاہم فنڈنگ کے خلا کو پر کرنے کے لیے فوری مالی وسائل مہیا کرنا ضروری ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





