پشاور میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ٹماٹر ایک بار پھر مہنگا ہو گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نئے سرکاری نرخنامے کے مطابق ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 45 روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری نرخ 225 روپے سے بڑھا کر 270 روپے فی کلو مقرر کر دیا گیا ہے۔
سرکاری نرخنامے کے باوجود شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا، کیونکہ شہر کے بیشتر بازاروں میں ٹماٹر مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ نرخ پر فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں ٹماٹر 350 سے 370 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد مؤثر نہیں، جبکہ دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے سرکاری نرخوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو سکے۔
دوسری جانب سبزی فروشوں کا مؤقف ہے کہ تھوک مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے، دیگر شہروں سے ترسیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طلب میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری ہے۔ ان کے مطابق جب منڈی میں ٹماٹر مہنگے داموں دستیاب ہوں تو سرکاری نرخ پر فروخت ممکن نہیں رہتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سے عام شہری کا گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جائیں اور قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی یقینی بنائی جائے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






