وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے مالی سال کے بجٹ 2026-27 پر معاشی ماہرین نے اپنے تبصروں میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم ن لیگ کے سابق وزیر نے حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید کی ہے۔
بجٹ سے متعلق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، کاروباری حلقوں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ایک طرف کچھ نئے ٹیکسز عائد کیے ہیں جبکہ دوسری جانب بعض شعبوں کے لیے مراعات، ٹیکس ریلیف اور ترقیاتی اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں میزبان محمد مالک نے مذکورہ معاملے پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر، سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز سے ان کی رائے طلب کی۔
میزبان نے سوال کیا کہ آپ حضرات بجٹ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اور اس پر آپ تینوں کی پہلی رائے کیا ہے؟
محمد زبیر :
جس کے جواب میں محمد زبیر نے کہا کہ میری نظر میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی ناگزیر تھی کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں اس طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح سپر ٹیکس اور پراپرٹی ٹیکس سمیت متعدد اقدامات حکومت خود متعارف کروا چکی تھی، جن کے باعث سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور صنعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اب ان ہی فیصلوں میں جزوی نرمی کو ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
البتہ میرے نزدیک سب سے اہم سوال ایف بی آر کے ریونیو میں دو ہزار ارب روپے اضافے کا ہدف ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ “انفورسمنٹ” کے ذریعے حاصل کیا جائے گا،جس سے گرفتاریوں، چھان بین اور دباؤ کی فضا پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
مفتاح اسماعیل :
مفتاح اسماعیل نے اس سوال پر کہ کیا حکومت نے اپنے ہی پیدا کردہ بحران کو جزوی طور پر درست کرنے کی کوشش کی ہے کے جواب میں کہا کہ کافی حد تک اس بات سے اتفاق کرنا پڑے گا۔
کیونکہ گزشتہ تین برسوں میں تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والا ٹیکس تقریباً چار گنا بڑھ گیا تھا، یہ طبقہ غیر معمولی بوجھ برداشت کر رہا تھا، اس لیے ٹیکس میں کمی ایک مثبت قدم ہے۔
تاہم ٹیکس سلیبز میں جو معمولی ردوبدل کیا گیا ہے، اس کا فائدہ محدود ہوگا، مثال کے طور پر اگر کسی ملازم کی تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے اور اس میں معمولی اضافہ ہوتا ہے تو وہ اگلے ٹیکس بریکٹ میں چلا جاتا ہے، جس سے اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے اس کے باوجود یہ اقدام ایک مثبت پیشرفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ چار برس سے چار فیصد معاشی شرح نمو بھی حاصل نہیں کرسکا، جو ملکی تاریخ میں غیر معمولی صورتحال ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جاتیں جو معیشت کو متحرک کرتیں، برآمدات میں اضافہ کرتیں، روزگار کے مواقع پیدا کرتیں اور معاشی نمو کو فروغ دیتیں۔
دانیال عزیز :
آئندہ سال شرح نمو کا ہدف مقرر کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں سابق وزیر دانیال عزیز نے کہا کہ میں آپ کی توجہ تین بنیادی نکات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔
پہلا یہ کہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے کے لیے کوئی مضبوط اور واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
دوسرا مسئلہ مہنگائی ہے، حکومت نے افراطِ زر کے مختلف تخمینے پیش کیے ہیں، لیکن میرے خیال میں حقیقی مہنگائی سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا ہدف 1.4 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 1.7 ٹریلین روپے کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی پر مزید دباؤ پڑسکتا ہے۔
تیسرا اہم مسئلہ بے روزگاری ہے بجٹ میں ایسا کوئی واضح اور ہدفی منصوبہ دکھائی نہیں دیتا جس سے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہو یا بے روزگاری میں کمی آئے۔
جہاں تک ٹیکس ریلیف کا تعلق ہے تو اگر موجودہ اور آئندہ سال کی متوقع مہنگائی کو ملا لیا جائے تو مجموعی بوجھ تقریباً 16 فیصد بنتا ہے، ایسی صورت میں اگر حکومت صرف 3 فیصد ٹیکس کم کرتی ہے تو عام ملازم کی حقیقی قوتِ خرید میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی۔
پروگرام کے دوران تینوں شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ بجٹ میں بعض اصلاحی اقدامات ضرور شامل ہیں، تاہم معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری، روزگار اور پائیدار ترقی کے لیے مزید جامع اور مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






