ایوان میں وزیرِ خزانہ کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے بڑا سرپرائز

اسلام آباد: وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ختم بھی ہو جائے تو اس کے معاشی اثرات آئندہ سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

سینیٹ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پیش کیا جا رہا ہے، جس میں معیشت سے متعلق اہم حقائق سامنے آئیں گے جبکہ دیگر تفصیلات مناسب مواقع پر شیئر کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور امید ہے کہ پاکستان کی قیادت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہوگی۔ وزیر خزانہ کے مطابق ابتدائی تین ہفتوں کے دوران 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔ بعد ازاں سبسڈی کو مخصوص اور مستحق طبقات تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام صوبائی حکومتوں نے تعاون کیا، جن میں خیبرپختونخوا حکومت بھی شامل ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے تعاون کے بغیر معاشی اقدامات پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام بدستور جاری ہے اور حکومت مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی ختم ہو جائے، تب بھی اس کے معاشی اثرات کچھ عرصہ تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر محصولات کے اہداف پورے ہوں یا نہ ہوں، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ معاشی بہتری کی علامت ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close