پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان این ایف سی اور بی آئی ایس پی کو چھیڑے بغیر مالیاتی معاہدے پر اتفاق

اسلام آباد: (ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ملک میں وسائل کی تقسیم کے فریم ورک پر ایک وسیع مفاہمت طے پا گئی ہے تاہم اس میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو باضابطہ طور پر چھیڑا نہیں گیا۔

دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے آگاہ ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے اور بی آئی ایس پی کے ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے گا۔

اس فیصلے کو مرکز کی مالی مشکلات کے حل اور موجودہ سماجی تحفظ اور وسائل کی تقسیم کے نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاہم مجوزہ نئے انتظام کے تحت صوبے مل کر 10کھرب روپے سے زائد مالی وسائل وفاق کو دیں گے، اس کی تفصیلات تکنیکی کمیٹیاں طے کریں گی۔ ذرائع کے مطابق یہ مفاہمت اسلام آباد کو درپیش مالی دباؤ کم کرنے کیلئے ایک سمجھوتہ ہے تاکہ این ایف سی ایوارڈ جیسے سیاسی طور پر حساس معاملے کو باضابطہ طور پر دوبارہ نہ کھولا جائے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس آمدن کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔

مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی پارلیمنٹ میں پیشی میں تاخیر کی ایک وجہ پیپلز پارٹی کی جانب سے این ایف سی اور بی آئی ایس پی کو نہ چھیڑنے پر اصرار بھی بتائی جا رہی ہے، بعض با اثر حلقوں میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو دیے جانے والے این ایف سی حصے پر بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ اس فارمولے کے تحت صوبوں کو ان کی فنڈز خرچ کرنے کی استعداد سے زیادہ وسائل مل رہے ہیں جبکہ مرکز کے پاس محدود مالی گنجائش رہ گئی ہے۔ اسی بنیاد پر ایک نئے این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا، تاہم سندھ اس کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔

مرکز کی مالی مشکلات کے پیش نظر بی آئی ایس پی کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں لیکن اس معاملے میں بھی پیپلز پارٹی سب سے بڑی مخالف رہی۔

اب اطلاعات کے مطابق موجودہ نظام میں ایک اہم شراکت دار سمجھی جانے والی پیپلز پارٹی مجوزہ ایڈجسٹمنٹ میکنزم پر رضامند ہو گئی ہے، تاہم ضروری نہیں کہ یہ براہِ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں ہو۔

اس کے بجائے یہ بالواسطہ اقدامات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے، مثلاً اخراجات کی نئی ترتیب (ری الائنمنٹ)، بعض ترقیاتی مدات میں وفاقی منتقلی میں کمی، یا وفاقی فنڈڈ منصوبوں سے متعلق صوبائی ذمہ داریوں میں تبدیلی، تاہم ان تفصیلات پر ابھی اعلیٰ قیادت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نمائندوں نے (ن) لیگ کو بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی جیسے معاملات پارٹی کیلئے سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں لہٰذا انہیں برقرار رکھا جائے جب کہ مطلوبہ مالی ایڈجسٹمنٹ دیگر ذرائع سے کی جائے، بی آئی ایس پی کو دائرہ کار اور فنڈنگ دونوں کے حوالے سے محفوظ رکھا جائے گا، جو سماجی بہبود کے پروگراموں سے متعلق پارٹی کے دیرینہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ نون لیگ پیپلز پارٹی کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب رہی ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں صوبوں کو مرکز پر مالی دباؤ کم کرنے اور وفاق و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close