فائلر اور نان فائلرز ہو جائیں تیار !!! اہم خبر

آئندہ بجٹ میں پراپرٹی ٹیکسز میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے ، جس سے فائلر کو ریلیف ملے گا تاہم نان فائلرز کو کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ دے کر روزگار بڑھانے کیلئے حکومتی کوششیں تیز ہوگئی ، وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ریلیف پیکج پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت خرید و فروخت پر عائد بھاری ٹرانزیکشن ٹیکسز میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

پاکستان نے اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کو بھی باقاعدہ بریفنگ دے دی ہے، ذرائع نے بتایا کجہ حکام نے آئی ایم ایف کو ٹرانزیکشن ٹیکس میں مجوزہ کمی سے آگاہ کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ ٹیکس کی شرح کم کرنے سے پراپرٹی کے لین دین میں تیزی آئے گی، جس کے نتیجے میں حکومت کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس حاصل ہو سکے گا۔

ایف بی آر حکام نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران پراپرٹی ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات میں بتایا گیا فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجاویز ہیں، پراپرٹی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ پراپرٹی کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد ہو سکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نان فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جائے گا، اور ان پر عائد 10.5 فیصد ٹیکس برقرار رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی جولائی تا مارچ ودہولڈنگ ٹیکس میں گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد کمی ہوئی،ٹیکس زیادہ ہونے سےجولائی تا مارچ 5فیصد گین ٹیکس میں گزشتہ سال کی نسبت 68 فیصدکمی ہوئی۔

جولائی تا مارچ37 ون اے شق کے تحت 10 فیصدگین ٹیکس میں گزشتہ سال کی نسبت 64 فیصد کمی اور رواں مالی سال شق7 ای کےتحت جولائی تا مارچ ڈیمڈ انکم پر انکم ٹیکس میں 10 فیصد کمی ہوئی۔

رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن انڈسٹری کے فروغ سے ملک کی 45 سے 55 دیگر صنعتیں وابستہ ہیں، اس شعبے کے چلنے سے ملک میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔

احسن ملک کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت ملکی معاشی ترقی کا ۴ فیصد سے زائد کا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے، تو رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو ریلیف دینا ناگزیر ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close