سکھر: سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی سے متعلق عوامی شکایات پر بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ٹرانسفارمرز اور بجلی کی تاریں اتارنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کے بدلے صارفین سے رقم وصول کرنا غیر قانونی ہے اور اس عمل کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
عدالتی فیصلے کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر پورے علاقے کی بجلی منقطع کرنا قانون کے منافی ہے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ میونسپل کارپوریشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جسٹس امجد حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد کی وجہ سے پورے علاقے کی بجلی بند کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صارفین بل ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی انہیں خراب ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے اضافی رقم ادا کرنی پڑتی ہے جو کہ ناانصافی ہے۔
عدالت نے سیپکو چیف کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور عدالتی احکامات پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






