وفاقی حکومت کی جانب سےپٹرولیم لیوی وصول کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دے دیا گیا

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمٹ سپورٹ لیوی وصول کرنے کا اختیار فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو دے دیا ہے،

 

جس کے بعد ایف بی آر وزارت پٹرولیم اور پٹرولیم ڈویژن کے ایجنٹ کے طور پر لیوی وصول کرے گا۔ ایف بی آر نے باضابطہ طور پر ایس آر او جاری کر دیا ہے جس کے ذریعے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم کردی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن میں پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی کا نظام بھی متعارف کرا دیا گیا ہے اور ایف بی آر نے سی ایس ایل اور پی ڈی ایل کی وصولی کے لیے ڈومیسٹک سیل انوائس (ڈی ایس آئی) بھی جاری کر دیا ہے اور ایف بی آر کے دیے گئے فارمیٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے رجسٹرڈ خریداروں کے کوائف بھی فراہم کرنا ہوں گے۔جتنے رجسٹرڈ پٹرول پمپس پٹرولیم مصنوعات خریدیں گے انہیں تمام تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ انیکس ایل کے تحت تمام رجسٹرڈ لوگوں کو خریداروں کے این ٹی این نمبر،کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نمبرز، نام، خریداری کی نوعیت اور متعلقہ ڈاکیومنٹ بشمول ایچ ایس کوڈ، تاریخ، فروخت کی نوعیت، جتنے لیٹر فروخت کیا گیا اس کی مقدار، جتنی مالیت کی فروخت ہوئی اس کی رقم بتانا ہوگی اور فروخت کی جانے والی پٹرولیم مصنوعات پر جس شرح اور جتنی پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمٹ سپورٹ لیوی وصول کی گئی ہے اس کی مالیت اور شرح بھی بتانا ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی ادارے یا خریدار کو فروخت پر پی ڈی ایل کی چھوٹ ہے یا زیرو شرح پر فروخت کی سہولت دستیاب ہے تو اس کے لیے بھی متعلقہ ایس آر او اور شیڈول کا حوالہ دینا ہوگا اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ کتنے آئٹمز فروخت کیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے ایف بی آر حکام سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن کے تحت اب ایف بی آر بطور ایجنٹ وزارت پٹرولیم اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کلائمیٹ سپورٹ لیوی (سی ایس ایل) اور پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی وصولی کے فرائض سر انجام دے گا جس کے لیے ایف بی آر نے ایس آر او 800(I)/2026 کے تحت سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کرتے ہوئے سیلز ٹیکس ریٹرن کے فارم ایس ٹی آر-7 کے اینکسچر-ایل میں تبدیلی کی گئی ہے۔ٹیکس وصولی کے مدات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی تاہم اب ایف بی آر متعلقہ وزارت کی جانب سے بطور وصولی ایجنٹ کام کرے گا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close