اینکر عمران ریاض کیساتھ حوالات میں کیا ہوا؟ وکیل کے افسوسناک انکشافات

اسلام آباد(پی این آئی)اینکر عمران ریاض کے وکیل کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ عمران ریاض خان پر تشدد نہیں کیا گیا تاہم نہ تو انہیں پینے کے لیے پانی دیا جا رہا ہے، نہ صبح ناشتہ کروایا گیا۔

 

عمران ریاض خان کو کپڑے بھی نہیں بدلنے دئیے جا رہے۔عمران ریاض خان تمام مقدمات پر بھرپور سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ،ان کے خلاف ایک ہی نوعیت کے 20 مقدمات درج ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ عمران ریاض عوام کو اداروں کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ ایک ہی ایف آئی آر کاپی پیسٹ کرکے بیس سے زائد مقدمات درج کر دئیے گئے۔تاریخ تو بتاتی ہے کہ ایسے مقدمات عام حالات میں درج ہی نہیں کیے جاتے لیکن چونکہ ملک میں عجیب سیاسی صورتحال بن چکی ہے تو ایسے میں مختلف صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی ، جہاں عمران ریاض خان کے وکیل نے کہا کہ صحافی عمران ریاض کو پنجاب پولیس نے اسلام آباد کی حدود سے گرفتار کیا ، آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب اور ڈی سی کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

جس ہر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رات کو رپورٹ آئی کہ عمران ریاض کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا ، اس پر وکیل نے جواب دیا کہ عمران ریاض نے مجھے فون کر بتایا کہ وہ اسلام آباد ٹول پلازہ پر ہیں۔ وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پولیس نے 17 مقدمات درج ہونے کی رپورٹ دی، لاہور ہائی کورٹ میں الگ سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے ، لاہور ہائیکورٹ کو رات کی ایف آئی آر سے متعلق نہیں بتایا گیا بلکہ یہ عدالت سے چھپائی گئی۔ سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہر عدالت کا اپنا دائرہ اختیار ہے، لاہور ہائی کورٹ معاملے کو دیکھ سکتی ہے کیوں کہ اٹک میں عمران ریاض کی گرفتاری ہوئی اس لیے ہماری عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا ، یہ کورٹ پنجاب کی تفتیش تو نہیں کر سکتی ، اس پر وکیل نے کہا کہ پولیس کہہ رہی ہے گرفتاری پنجاب سے ہوئی ، ہم کہہ رہے ہیں اسلام آباد سے ہوئی۔

 

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہہم نے اسلام آباد سے گرفتاری کی بات کی تھی لیکن یہ ہمارے دائرہ اختیارسے باہر گرفتاری ہوئی ہے ، عمران ریاض کی گرفتاری اسلام آباد پولیس نے نہیں بلکہ پنجاب نے کی ہے، اس لیے ہم کیس میں کوئی آبزرویشن نہیں دے رہے ، یہ آپ کے مفاد میں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں ، لاہور ہائیکورٹ کہے کہ اسلام آباد سے گرفتاری ہوئی تو وہ آرڈر لے آئیے گا۔