طالبات کا صبر جواب دے گیا! وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ

خانیوال: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین کی مبینہ غفلت کے باعث اے ڈی پی انگلش سیشن 2021-23 کی درجنوں طالبات کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

متاثرہ طالبات کے مطابق سیشن مکمل ہوئے تین سال گزر چکے ہیں، تاہم انہیں تاحال فائنل رزلٹ اور ڈگری جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل کرنے اور ملازمتوں کے لیے درخواست دینے سے محروم ہیں۔

طالبات کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ یونیورسٹی نے رزلٹ جاری نہیں کیا، جبکہ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ کالج نے مڈ ٹرم امتحانات کا رزلٹ ارسال نہیں کیا۔ دونوں اداروں کے درمیان اس تنازعے کا خمیازہ طالبات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ طالبات کے مطابق متعدد طالبات مایوسی کے باعث تعلیم ترک کر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سمسٹر کی فیس 5 ہزار 500 روپے تھی اور دو سالہ پروگرام کے دوران 22 ہزار روپے فیس ادا کی گئی۔ کسی مضمون میں سپلی آنے کی صورت میں دوبارہ 5 ہزار 500 روپے وصول کیے گئے، جبکہ کئی طالبات نے یہ فیس دو سے تین مرتبہ بھی جمع کروائی۔

طالبات کا کہنا ہے کہ جامع ٹیسٹ اور ڈگری فیس کی مد میں بھی اضافی رقم وصول کی گئی، جس کے باعث فی طالبہ مجموعی اخراجات 35 سے 40 ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

متاثرہ طالبات کے مطابق وہ 6 نومبر 2025 کو جامع ٹیسٹ بھی دے چکی ہیں، لیکن اس کا رزلٹ بھی اب تک جاری نہیں کیا گیا۔

سیدہ مبشرہ پلوشہ اور دیگر طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر تعلیم اور وائس چانسلر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کالج اور یونیورسٹی کے درمیان موجود مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے اور ان کا رزلٹ، ٹرانسکرپٹ اور ڈگری جاری کی جائے تاکہ ان کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close