ہر سال 25 اپریل کو World Malaria Day منایا جاتا ہے تاکہ ملیریا جیسے خطرناک مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اس موقع پر ماہرین صحت نے خاص طور پر عام بخار اور ملیریا کے درمیان فرق کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
عام بخار عموماً وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن جیسے نزلہ، زکام یا فلو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس میں درجہ حرارت بتدریج بڑھتا ہے اور مریض کو جسم درد، گلا خراب ہونا، کمزوری اور ہلکی کپکپی جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔ مناسب آرام، پانی اور سادہ ادویات سے یہ چند دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس ملیریا ایک مخصوص جراثیم Plasmodium کی وجہ سے ہوتا ہے، جو مچھر کے کاٹنے سے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس بیماری کی نمایاں علامت وقفے وقفے سے آنے والا تیز بخار ہے، جس کے ساتھ شدید کپکپی، پسینہ، سر درد، متلی اور تھکن شامل ہوتی ہے۔ کچھ وقت کے لیے مریض بہتر محسوس کرتا ہے مگر پھر بخار دوبارہ شدت سے لوٹ آتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق یہی وقفہ اکثر مریضوں کو دھوکہ دیتا ہے اور وہ علاج میں تاخیر کر دیتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بخار دو سے تین دن سے زیادہ برقرار رہے یا بار بار کپکپی اور پسینہ آئے تو فوری طور پر طبی معائنہ ضروری ہے۔
ملیریا کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے اور اس کا علاج مخصوص ادویات سے ہی ممکن ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر، گردوں اور خون کی کمی جیسے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صاف پانی کا استعمال، مچھر سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اس بیماری سے بچنے کے مؤثر طریقے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






