سکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم ؟ اہم خبر آ گئی

صوبائی حکومت نے پرائمری سطح پر اسکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم کرتے ہوئے کہا بچے اور بچیاں بنیادی تعلیم ایک ہی اسکول میں حاصل کر سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں تعلیمی ترقی، شرح خواندگی میں اضافے، صحت اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انقلابی اور جامع پالیسی اصلاحات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان تینوں اہم شعبوں کی بہتری کے لیے خصوصی اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبے میں ‘ٹاٹ کلچر’ کے فوری اور مکمل خاتمے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ “دنیا بدل چکی ہے، یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ بلوچستان میں اب بھی بچہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اب کوئی بچہ ٹاٹ پر نہیں بیٹھے گا بلکہ ہر فعال سرکاری اسکول میں ڈیسک فراہم کیے جائیں گے تاکہ بچے عزت کے ساتھ ڈیسک پر بیٹھ کر پڑھیں۔”

انہوں نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی بھی پہاڑی علاقے یا چٹیل میدان میں اچانک اتر کر اسکولوں کا معائنہ کریں گے، اگر مقررہ مدت کے بعد کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھا نظر آیا تو متعلقہ حکام کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

مجوزہ تعلیمی پالیسی کے تحت صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے پرائمری سطح پر اسکول یونیفارم کی شرط کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غریب بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔

اس کے علاوہ پرائمری اسکولوں کو ‘جینڈر فری’ ڈکلیئر کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت اب چھوٹے بچے اور بچیاں بنیادی تعلیم ایک ہی اسکول میں حاصل کر سکیں گے۔ اس مجوزہ پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

اجلاس میں مزید فیصلے کیے گئے کہ صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی عمل شروع کیا جائے گا اور تمام سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی، نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے اساتذہ کی گزشتہ کئی سالوں سے منجمد فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close