درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور پٹرول و ڈیزل کی مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت نے نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس سے ریفائننگ کے شعبے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
نئی پالیسی متعلقہ اداروں اور ایس آئی ایف سی کی تجاویز کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد پرانی آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ، فرنس آئل کی پیداوار میں نمایاں کمی اور ایندھن کے معیار کو یورو 5 معیار کے مطابق بہتر بنانا ہے۔
پالیسی کے تحت ریفائنریوں کو یورو 5 معیار کا ایندھن تیار کرنے کے لیے سات سالہ مراعاتی پیکیج دیا جائے گا، جبکہ انہیں پالیسی کی منظوری کے 90 دن کے اندر اوگرا کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا۔
نئی پالیسی میں عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹیکس، ماحولیاتی قانون سازی اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز سے متعلق تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔ ریفائنریوں کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ہوگی۔
پالیسی کے مطابق تمام آئل ریفائنریاں کم از کم 14 روز کا خام تیل ذخیرہ رکھیں گی، جبکہ درآمدی خام تیل پر انحصار کرنے والی ریفائنریوں کو اضافی پانچ روز کا ذخیرہ بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
ریفائنریوں کو سابقہ مراعاتی پیکیج چھوڑ کر نئی پالیسی کے تحت مراعات حاصل کرنا ہوں گی، جبکہ اس سے قبل انہیں پٹرولیم لیوی اور کلائیمیٹ سپورٹ لیوی کے واجبات ادا کرنا ہوں گے۔
پالیسی میں مقررہ مدت کے اندر اپ گریڈیشن مکمل نہ کرنے والی ریفائنریوں کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کرنے کی سفارش بھی شامل ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اوگرا کے ساتھ قانونی طور پر لازم اپ گریڈیشن معاہدوں کے ذریعے نگرانی، عملدرآمد اور احتساب کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔






