خلفائے راشدین کے دور کی طرح غریب اور معذور افراد کے لیے وظیفہ مختص کرنے کا مطالبہ

مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی محترمہ کوثر تقدیس گیلانی کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، جس میں اہلِ سادات سے تعلق رکھنے والے نادار، سفید پوش اور مستحق افراد کی مالی معاونت کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر میں بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جن کا تعلق اہلِ سادات سے ہے اور ان میں اکثریت سفید پوش اور مالی مشکلات کا شکار خاندانوں پر مشتمل ہے۔ اسلام میں اہلِ سادات کے مستحق افراد کو زکوٰۃ فنڈ سے مالی امداد نہیں دی جا سکتی، جبکہ خلفائے راشدین کے دور میں ان کی کفالت اور معاونت کے لیے الگ وظیفہ مقرر تھا۔

قرارداد کے متن کے مطابق آزاد کشمیر میں اہلِ سادات سے تعلق رکھنے والے نادار، معذور اور مستحق افراد کی مالی معاونت کے لیے حکومتی سطح پر کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں، جس کے باعث یہ طبقہ مختلف معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے محترمہ کوثر تقدیس گیلانی نے کہا کہ وہ اہلِ سادات کے مستحق افراد کی فلاح و بہبود کے لیے طویل عرصے سے کام کر رہی ہیں اور اس حوالے سے جلد ہی ’’خمس بل‘‘ قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے ایوان کے دونوں اطراف کے اراکین سے قرارداد کی حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مؤثر قانون سازی کے ذریعے اہلِ سادات سے تعلق رکھنے والے غریب، نادار اور مستحق افراد کی باعزت مالی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

قرارداد کی منظوری کے بعد ایوان نے اس معاملے پر قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close