خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے بعد شروع کیا گیا کلیئرنس آپریشن تقریباً 22 گھنٹوں بعد مکمل کرلیا گیا، جس کے دوران تمام 8 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ شہید ہونے والوں کی تعداد 23 ہوگئی۔
سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ ایلیٹ فورس کمانڈوز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیموں اور سکیورٹی فورسز نے عمارات کے اہم حصوں کو کلیئر کرلیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق خودکش بمبار نے قانون کے رکھوالوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ آئی جی خود جائے وقوع پر موجود رہے اور جوانوں کا حوصلہ بڑھایا۔
بیان کے مطابق جی او سی کوہاٹ بھی آپریشن کے دوران موجود رہے، جبکہ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈی پی او کوہاٹ نے آپریشن کی قیادت کی۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جانباز جوان قوم کا فخر ہیں۔
آئی جی نے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
قبل ازیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے بیان میں بتایا گیا تھا کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) سی ٹی ڈی گزشتہ روز دوپہر سے فتنہ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن میں فرنٹ لائن پر موجود ہیں۔
سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ کیا گیا، جس میں ان کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔
گزشتہ روز کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکے کے بعد دہشت گرد حملے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کوہاٹ کے ہنگو روڈ پر واقع اولڈ پولیس لائنز کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران تقریباً ایک بج کر 20 منٹ پر دھماکا ہوا، جس کے بعد دہشت گرد حملہ بھی کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے میں مجموعی طور پر 21 افراد شہید ہوئے تھے، جن میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔
شہری شہداء میں ڈاکٹر اسرار خان اورکزئی بھی شامل تھے، جو چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ (پیڈیاٹرکس) تھے، جبکہ دیگر شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کوہاٹ سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں 103 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل تھے۔ زخمیوں میں سے 13 افراد لیاقت میموریل اسپتال جبکہ 90 افراد ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ لائے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق 34 زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ 5 مریضوں کا لیپروٹومی آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے مرحلے سے گزرنے والے مریضوں میں سے 4 کو مزید علاج کے لیے پشاور کے بڑے طبی مراکز منتقل کردیا گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صورتحال کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور زخمیوں کو متعلقہ طبی مراکز میں ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے میں 5 سے 7 دہشت گرد ملوث تھے۔
سینٹرل پولیس آفس سے جاری بیان کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔
میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا کہ متعدد شہری ایک عمارت کے قریب جمع ہیں، جس کی ایک دیوار منہدم ہوچکی ہے، جبکہ لوگ ملبہ ہٹا کر زخمیوں کی مدد کررہے ہیں۔
بعد ازاں گزشتہ روز رات کو پولیس لائنز میں دھماکے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ پولیس لائنز کوہاٹ میں ادا کردی گئی تھی، جس میں آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ پولیس، افواج پاکستان اور سول افسران نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کی جانب روانہ کردیئے گئے تھے۔ اس موقع پر آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ شہداء کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردوں پر خیبرپختونخوا کی سرزمین تنگ کردی جائے گی۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ دہشت گردوں کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بھی جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔






