پینٹاگون واچ ڈاگ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکا کو اسلحے اور گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ کے مالی اور عسکری نقصانات سے متعلق امریکی وزارتِ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے پہلی باضابطہ تفصیلی رپورٹ جاری کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون کے اختتام تک جنگ پر امریکا کے 33 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد اخراجات ہوچکے ہیں، جبکہ 22 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیار اور بم استعمال کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کے آلات اور طیارے مکمل طور پر تباہ یا ضائع ہوئے ہیں۔
عسکری نقصانات کی تفصیلات کے مطابق اب تک 50 سے زائد امریکی طیارے اور ڈرونز تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں چار ایف-15 ای جنگی طیارے، ایک ایف-35 اے، ایک اے-10 وارٹ ہاگ، 12 کے سی-135 ری فیولنگ طیارے اور کم از کم 30 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے مسلسل جاری رہنے کے باعث امریکی فوج کو گولہ بارود کی شدید کمی کے ساتھ ساتھ سپلائی چین میں رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اپنی تاریخ کے بہترین اور جدید ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں موجود امریکی افواج کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔






