شام نے 73 ٹن قدرتی یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں دے دیا ہے، جسے دمشق کی 15 سالہ جوہری عدم تعمیل کی فائل کے خاتمے اور عالمی ایٹمی ادارے کے ساتھ تعاون کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
شامی وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس سے ویڈیو خطاب میں بتایا کہ ادارے کے بورڈ آف گورنرز نے 9 ستمبر کو متفقہ طور پر شام کی جوہری فائل بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فائل 2011 سے زیرِ غور تھی۔
اسد الشیبانی کے مطابق دمشق نے 17 جولائی کو آئی اے ای اے کو ایک سرکاری خط ارسال کیا، جس میں ایک غیر اعلانیہ مقام پر موجود جوہری مواد سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ اس کے بعد 29 جولائی کو ایجنسی کے ساتھ تعاون کے لیے روڈ میپ پر دستخط کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تقریباً دو دہائیوں بعد 16 اگست کو متعلقہ تنصیب کا دورہ کیا۔ شامی اور آئی اے ای اے کے ماہرین نے مقام پر مضبوط کنکریٹ کے نیچے موجود ری ایکٹر کی باقیات کو ہٹانے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔
شامی وزیر خارجہ کے مطابق دمشق نے 2011 سے آئی اے ای اے کی جانب سے طلب کی جانے والی ڈیزائن معلومات اور جوہری مواد کی انوینٹری سے متعلق رپورٹس بھی فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل کے باوجود شامی اٹامک انرجی کمیشن نے چند ہفتوں میں متعلقہ معاملات حل کرنے کے لیے اقدامات مکمل کیے۔






