ایران کا امریکی ایئر بیس اور جہازوں پر حملے کا دعویٰ

تہران: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں مزید شدت کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ عرب میڈیا پر شائع ایک تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خلیجی اور خطے کے رہنما، جو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بڑھتے سلسلے پر ایک بار پھر متحرک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خطے میں صورتِ حال میں نمایاں فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں اردن کے الازرق فوجی اڈے پر تباہ کن میزائل حملہ کیا گیا۔ ایرانی دعوے کے مطابق حملے میں ایف-35، ایف-16 اور ایف-15 جنگی طیاروں کی مرمت اور تعیناتی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم اردن کی فوج نے اس دعوے کے برعکس کہا ہے کہ اس نے 20 بیلسٹک میزائلوں میں سے 18 کو فضا میں تباہ کر دیا، جبکہ 2 میزائل کھلے علاقوں میں گرے، جن سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے 2 جنگی جہازوں، 2 دیگر امریکی بحری جہازوں اور 8 تیل بردار ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے متضاد دعوؤں کے باوجود خطے میں صورتِ حال تیزی سے بگڑنے کے اشارے مل رہے ہیں اور آنے والے دنوں اور ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مزید حملوں اور جوابی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔