امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حیدرآباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کل ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں دھرنے جاری ہیں اور عوام اس تحریک کا حصہ بن چکے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تحریک بھتہ لیوی، پٹرولیم لیوی، لوڈشیڈنگ، آٹے اور روٹی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے زندگی مشکل بنا دی ہے، جبکہ حکمران آئی ایم ایف پروگرام کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹیکس میں کمی سے انکار کرتے ہیں۔ حکومت کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ عوام سے وصول کیا جانے والا پیسہ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 49 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ گرمیوں میں ضرورت تقریباً 20 ہزار میگاواٹ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کیپسٹی چارجز کے خاتمے سے عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو پٹرول کی قیمت میں بھی ریلیف دینا ہوگا اور جن آئی پی پیز کی مدت مکمل ہوچکی ہے، انہیں بند کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے سندھ میں تعلیم اور صحت کی صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں میرٹ کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت ضروری ہے، جبکہ موجودہ نظام کو جڑ سے تبدیل کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے عوام سے اپیل کی کہ کل ملک گیر ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پورے پاکستان سے مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا ابھی ختم نہیں ہوا اور مطالبات تسلیم ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔






