اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں آرہے، ہمیں کہیں سے انصاف نہیں ملا، اس لیے اپنے حقوق مانگنے آرہے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ عدالتیں ہمیں انصاف دینا شروع کریں، ہمیں عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 320 دن ہوگئے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ہماری کوئی ملاقات نہیں ہوئی، جبکہ ان کی بانی سے آخری ملاقات 15 اکتوبر 2025 کو ہوئی تھی اور حالیہ دنوں میں ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی احتجاج کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حقوق کے لیے آرہے ہیں، پرامن ہوں گے اور کوئی تشدد نہیں ہوگا۔ نہ ریاست یا صوبے کے وسائل استعمال کریں گے اور نہ اڈیالہ جیل کے گیٹ توڑنے آرہے ہیں، بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں انصاف دیا جائے، ہمارے مطالبات منظور ہوں اور ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں میں گئے، پارلیمنٹ اور سینیٹ میں آواز اٹھائی لیکن ہماری کسی نے نہیں سنی۔ بانی پی ٹی آئی کو 7 سزائیں ہوئیں، 300 کیسز بنائے گئے اور وہ 3 سال سے جیل میں ہیں، اب بس ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو اب ہاتھ اٹھانا چاہیے، ورنہ اسے ملک اور قوم کی خیر نہیں ہوگی۔ اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرکے علاج کرایا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے۔ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو مات دی ہے۔ ہمارے احتجاج کا اعلان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے پیکٹ سے پہلے کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی اہم سفارتی کامیابیوں میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ جب پاکستان میں ایران، امریکا مذاکرات ہوئے تو ہم نے اپنا جلسہ منسوخ کردیا تھا، جبکہ ایران اور چین کے وفود آئے تو ہم اسمبلی میں ساتھ بیٹھے، تاہم بدقسمتی سے دوسری جانب سے کوئی پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر ہمارے دروازے بند ہوں گے تو سسٹم سکڑنے کی طرف جائے گا۔ آپ خود کہتے ہیں کہ سسٹم کو ری سیٹ چاہیے، اگر آپ ری سیٹ کے لیے تیار نہیں تو عوام خود ری سیٹ کردیں گے۔ بہتری اسی میں ہے کہ تناؤ کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملدرآمد نہیں ہوا، تاہم سارا پاکستان خوش تھا اور جنہوں نے آخری لمحے میں اس آرڈر پر عمل نہیں کیا، انہوں نے اچھا نہیں کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج پر ساری اپوزیشن ہمارے ساتھ ہے اور احتجاج پر بھی تمام جماعتوں کو ساتھ چلنے کے لیے کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو ایک کیس میں اندر رکھا گیا ہے جو غیر انسانی سلوک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد اسمبلی میں حکومت کو اکاؤنٹیبل ٹھہرائے گا اور باہر بھی عوامی مسائل پر اکٹھے چلے گا۔ آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمارا موقف واضح ہے اور عوامی مطالبات پر بات چیت ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے کیونکہ سیاسی ڈائیلاگ ضروری ہے اور ہم اس نہج پر اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ ہماری بات نہیں سنی جارہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا اور ملاقاتیں کیوں بند ہیں۔
پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ ڈونیشن لی ہے اور ہمارے اکاؤنٹس کلیئر ہیں۔ جو بھی فنڈنگ آتی ہے وہ اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ ہوتی ہے، تمام ڈونیشن بینکنگ چینل سے آتی ہے اور ہمارا آڈٹ ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پر کسی صحافی کی ٹرولنگ کی حمایت نہیں کرتے، صحافی اپنی رائے عوام کے سامنے رکھنے میں آزاد ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کا حق ہے کہ وہ واٹس ایپ پر ان سے بات کریں اور بانی کے بچوں کے حوالے سے ان کی فیملی زیادہ بات کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہماری مجبوری ہے، اگر ڈائیلاگ ہوگا تو ہم تیار ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی ڈائیلاگ سے انکار نہیں کیا۔






