مون سون بارشوں کے باعث ملک بھر میں دریاؤں اور ڈیموں کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ تربیلا ڈیم اپنی آخری حد تک بھر چکا ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 68 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔ حکام نے آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران دریائے راوی اور چناب میں بھی نچلے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 17 سے 19 اگست کے دوران دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ ندی نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور بارش کا امکان ہے۔ راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور شیخوپورہ میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، سوات، ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ دریائے سندھ کے بالائی علاقوں، ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں بھی بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور کشمیر میں وسیع پیمانے پر تیز بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ دریائے جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی علاقوں میں بھی موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان کے اضلاع استور، دیامر، گلگت اور اسکردو میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ چنیوٹ، فیصل آباد، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی بارش ہوسکتی ہے۔
بلوچستان کے بارکھان اور شیرانی میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔






