لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کل 16 اگست کو لیوی ٹیکسز کے خلاف کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے گورنر ہاؤسز جبکہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دے گی، یہ دھرنے سہ پہر 4 بجے شروع ہوں گے۔ مختلف شہروں سے عوام کے قافلے مارچ کرتے ہوئے دھرنوں کے مقامات پر پہنچیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی اور صوبائی ذمہ داران کے ہمراہ منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر نائب امراء لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، ڈاکٹر عطاء الرحمن، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، ڈپٹی سیکریٹری اظہر اقبال حسن، امیر لاہور ضیاء الدین انصاری، سیکریٹری صوبہ وسطی پنجاب بابر رشید، سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ، جے آئی یوتھ کے احمد سلمان بلوچ اور جبران بٹ بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم پرامن طور پر پریشان حال محنت کشوں، مزدوروں، طلبہ سمیت معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اگر ہمارے احتجاج میں حکومت نے ایڈونچر یا کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر پٹرول کم قیمت کرنے کی یہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بھی بدل سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے گزشتہ ہفتے پانچ سو دس مقامات پر دھرنے دیے، کسی ایک مقام پر کوئی گملہ بھی نہیں ٹوٹا۔ ہم پرامن رہتے ہوئے میدان میں نکلیں گے اور اپنا حق لے کر جائیں گے۔ ہم دھرنے شروع ہونے کا وقت دے رہے ہیں، ختم ہونے کا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرول لیوی ختم کرکے قیمت 225 روپے کی جائے اور آٹے، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کرکے روٹی 10 روپے کی جائے۔ وفاقی و صوبائی بیوروکریسی، ججز، جرنیلوں، وزراء اور مشیروں کی گاڑیاں 1300 سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہئیں، مفت بجلی، گیس اور تیل سمیت شاہانہ مراعات ختم کی جائیں اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پر حکمرانوں کے ظلم کی انتہا ہوگئی ہے۔ حکومتی اخراجات عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈال کر پورے کیے جا رہے ہیں۔ حکمران اپنے اخراجات کم اور مراعات ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ پٹرول کے ایک لیٹر پر 130 روپے لیوی کے نام پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ 800 ارب تھا مگر حکومت ایک ہزار ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور عوام کا خون نچوڑ کر حکمران شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ٹرانسپورٹ میسر نہیں اور وزیراعلیٰ 11 ارب کے جہاز میں گھوم رہی ہیں، اور جب کہا جاتا ہے تو ڈھٹائی سے کہتے ہیں، ہاں خریدا ہے جہاز۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب بھی نہ نکلے تو پھر کب گھروں سے باہر نکلیں گے۔ ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، جماعت اسلامی ہمیشہ عوامی ایجنڈے کو لے کر چلتی ہے۔ اس وقت الیکشن نہیں ہو رہے مگر جماعت اسلامی عام آدمی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے میدان میں موجود ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعتوں اور دینی جماعتوں سمیت تمام سیاسی کارکنوں کو بھی باہر نکلنے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے جماعت اسلامی کی آواز میں آواز ملانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارا راستہ روکا تو پھر ہمارے پاس دوسرا پلان موجود ہے، ہمیں روکا گیا تو یہ دھرنے پورے ملک میں پھیل جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران خوب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے کارکنان پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ہم ڈنڈے اور شیل کھانے کے عادی ہیں، ہمارے کارکنان تربیت یافتہ ہیں۔ اگر حکومت نے انتشار اور فساد پھیلانے کی کوشش کی تو ساری ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ملک بھر میں پانچ سو دس مقامات پر پرامن دھرنے دیے گئے، تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ لاکھوں لوگ احتجاج کر رہے ہوں اور کوئی ایک گملہ ٹوٹے نہ کسی کی نکسیر تک پھوٹی ہو۔
انہوں نے کہا کہ مجھے گڈز ٹرانسپورٹرز کا فون آیا تھا، ہم ان کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ تمام ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں کہ اپنے مطالبات ایسے انداز میں پیش کریں جن سے عوام کو مشکلات نہ ہوں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم ملک میں افراتفری نہیں چاہتے، ہم فارم 47 کی حکومت کے خلاف ہیں۔ کراچی میں ہماری سیٹیں چھین کر ظلم کیا گیا مگر ہم پرامن رہے۔ حکومت ہمارے صبر کو نہ آزمائے، عوام ان حکمرانوں کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نااہل حکمران آئی پی پیز کو بجلی بنانے سے زیادہ بجلی نہ بنانے کے پیسے دے رہے تھے اور ظلم پر ظلم یہ کہ یہ ادائیگیاں ڈالروں میں کی جا رہی تھیں۔ ہماری تحریک کے نتیجے میں کئی معاہدے منسوخ ہوئے اور ملک کو ہزاروں ارب روپے کے زرمبادلہ کا فائدہ ہوا جبکہ عوام کو 7 روپے فی یونٹ کا ریلیف ملا۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے درجنوں معاہدے ایسے ہیں جن کو ختم کرکے عوام کو بجلی سستی دی جا سکتی ہے۔ پنجاب اور کے پی میں عوام کو روزانہ 6 سے 8 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے، جس سے نجات مل سکتی ہے۔






