ایران کا امریکا سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ

ایران نے امریکا سے شکست تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کردی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’’انتہائی برائی پر مبنی ملک‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکی عوام کو جنگ کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ہفتے کی صبح ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔ ان کے مطابق جب تک امریکا شکست کی حقیقت تسلیم نہیں کرتا اور ’’خیالی تصورات‘‘ میں مبتلا رہتا ہے، ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی ناکہ بندی نافذ کرتا رہے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے واشنگٹن کو ایرانی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

جنگ کے باعث دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ شپ ٹریکنگ کمپنی کے پی ایل آر کے تجزیے کے مطابق جمعے کو صرف دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے اور ان میں خام تیل کی ترسیل نظر نہیں آئی۔

جنگ سے قبل روزانہ 130 سے زائد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے، تاہم اب یہ آمدورفت انتہائی محدود ہوچکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ جاری رہنے کے دوران پٹرول کی قدرے زیادہ قیمتیں قبول کریں۔

ٹرمپ نے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے سے ایک ’’انتہائی برے ملک‘‘ کو روکنے کی قیمت کے طور پر پٹرول کے لیے کچھ زیادہ ادائیگی قابل قبول ہے۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی کا ایک مقصد اسے جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا ہے۔

امریکی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق جمعے کو امریکا میں ایک گیلن پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.08 ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔

ادھر خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ جمعے کو خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں ایک ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت میں ہفتہ وار بنیاد پر 6 فیصد اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں 5.4 فیصد اضافے کا امکان تھا۔

ایران میں بھی جنگ کے معاشی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو میں ملک میں مہنگائی کی بلند شرح کا ذمہ دار امریکی ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کو قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر مزید مالی دباؤ بڑھانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ بیسنٹ کے مطابق ایران کے خلاف مزید اقدامات کا اعلان اگلے ہفتے کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے کی صورت میں میزائل یا ڈرون حملوں کا خطرہ بھی درپیش ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے مطابق جمعرات کی شام آبنائے سے گزرتے ہوئے اس کے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کو ایک اور بحری جہاز بھی حملے کی زد میں آیا۔

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق جمعے کو آبنائے ہرمز میں ایک بلک کیریئر کے ہل سے نامعلوم چیز ٹکرائی، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ جہاز کو پہنچنے والے نقصان اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں نے علاقائی جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مطابق حوثیوں نے جمعے کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ المخا پر 6 بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں 4 شہری جاں بحق ہوئے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جون میں ہونے والا ممکنہ معاہدہ بھی اب غیر یقینی کا شکار ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے نزدیک پہلے کوئی جنگ بندی موجود نہیں تھی جسے اب بڑھایا جائے، بلکہ جنگ کے خاتمے کی بات ہوئی تھی اور اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔