ماسکو (آن لائن) روس نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی صرف کسی طویل المدتی اور پائیدار حل کا حصہ ہونی چاہیے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے روسی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ماسکو فوری جنگ بندی کو قابلِ عمل نہیں سمجھتا۔
سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس یوکرین کی فوجی صلاحیت بڑھانے والی مغربی حمایت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کرے گا۔ ان کے مطابق مغربی امداد یوکرین کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے اور ماسکو اسے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی وقتی وقفے کے بجائے ایسے طویل المدتی اور پائیدار سیاسی حل کی بنیاد بننی چاہیے جو تنازع کے بنیادی مسائل کو حل کرسکے۔
انہوں نے امریکا پر روس کے خلاف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ماسکو نے مبینہ امریکی انٹیلی جنس تعاون کے معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کی ہے۔
سرگئی لاوروف نے تاہم واضح کیا کہ ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس سیاسی حل کے لیے مذاکراتی رابطوں کے دروازے بند نہیں کر رہا۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی مذاکرات کاروں کو تجاویز پیش کیے جانے اور واشنگٹن کی سفارتی کوششوں کو دوبارہ آگے بڑھانے کی اطلاعات ہیں۔






