پارلیمنٹ نے حکومت کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے روک دیا

تہران (آن لائن) ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت نے حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے خبردار کرتے ہوئے سبسڈی والے پٹرول کی تقسیم کے طریقہ کار میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے نام پارلیمانی ارکان کا بیان 9 اگست کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا۔ ارکان نے کہا کہ حکومت کو نومبر 2025 میں بھی خبردار کیا گیا تھا کہ 50 ہزار ریال فی لیٹر کے حساب سے پٹرول کا تیسرا ٹیرف متعارف نہ کرایا جائے اور قیمتیں بڑھانے کے بجائے دیگر اقدامات سے پٹرول کی طلب کم کی جائے۔

ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق قیمت میں اضافے کے باوجود پٹرول کی طلب میں کمی نہیں آئی اور روزانہ کھپت 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ تقریباً ایک تہائی پٹرول اب بھی فیول کارڈز کے ذریعے خریدا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جنگی حالات اور ناکہ بندی کے باعث درآمدی پٹرول تک رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ پٹرول درآمد کرنے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے سے بجٹ خسارے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کو طویل عرصے سے پٹرول کی پیداوار اور کھپت کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ ایرانی ریفائنریوں کی زیادہ سے زیادہ پیداوار تقریباً 11 کروڑ لیٹر یومیہ ہے، جبکہ کھپت تقریباً 13 کروڑ لیٹر روزانہ تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث روزانہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پٹرول کی کمی کا سامنا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق علاقائی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پٹرول کی درآمد بھی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔