اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت دانش اتھارٹی بورڈ کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس میں بورڈ ارکان اور شرکا کا خیر مقدم کیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 29 دانش اسکولز مجوزہ ہیں، جن میں سے 15 منظور ہو چکے ہیں جبکہ 13 پر کام جاری ہے۔ دانش اسکول کری اسلام آباد میں کلاسز کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
بورڈ اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے باغ اور بھمبر جبکہ گلگت بلتستان کے گھانچھے، سلطان آباد اور استور میں دانش اسکولز کی تعمیر دسمبر تک مکمل ہو جائے گی۔
دانش اتھارٹی بورڈ نے دانش اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے بین الاقوامی معیار کا ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ قیام کے بعد یہ ادارہ پاکستان بھر کے تربیتی اداروں کے لیے ماڈل ادارہ ہوگا۔
اجلاس کو دانش اتھارٹی کے مجوزہ انتظامی ڈھانچے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے انتظامی ڈھانچے کو مختصر رکھا جائے اور اس پر کم سے کم وسائل خرچ کیے جائیں۔
بورڈ اجلاس نے دانش اسکول اتھارٹی رولز، مینیجنگ ڈائریکٹر رولز اور دیگر قواعد کی اصولی منظوری دی، جس کے بعد ضابطے کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔ اجلاس میں دانش اسکولوں کو الاٹ کی گئی تمام زمین دانش اسکول اتھارٹی کے نام منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس اہم ذمہ داری کو قبول کرنے پر بورڈ کے ارکان کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ معاشی طور پر کمزور بچوں کو یکساں تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دانش اسکولز کی بنیاد اسی فلسفے کے تحت رکھی گئی، جس میں غریب اور مستحق طلبا کو میرٹ پر داخلہ اور تعلیم دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام زیرِ تعمیر دانش اسکولوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ تمام زیرِ تعمیر اور نئے دانش اسکولز میں طلبا و طالبات کے لیے سو فیصد بورڈنگ کی سہولت فراہم کی جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے دانش اسکولز میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ٹیکنالوجیز کی تربیت کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نصاب میں پراجیکٹ اور اسکل بیسڈ لرننگ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی شخصیت نکھارنے کے لیے بھی کورسز شامل کیے جائیں۔
اجلاس میں دانش اسکولز اتھارٹی کے ممبران کو حالیہ پیش رفت اور کارکردگی پر جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔






